آسٹریلیوی ریاست نے اسلحہ قوانین کو مزید سخت بنانے کیلئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرلیا

0

سڈنی — آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ بونڈی میں پیش آنے والے مہلک فائرنگ کے واقعے کے تناظر میں ریاستی پارلیمنٹ کو اگلے ہفتے دوبارہ طلب کیا جائے گا، تاکہ اسلحہ قوانین کو مزید سخت بنانے اور احتجاج سے متعلق قوانین میں اصلاحات پر فوری غور کیا جا سکے۔

پریمیئر کے مطابق حکومت اس واقعے کو محض ایک انفرادی سانحہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کر سکتی، بلکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بونڈی فائرنگ نے موجودہ گن کنٹرول فریم ورک اور عوامی سلامتی کے نظام میں ممکنہ کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔

کرس منز کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح آتشیں اسلحے تک رسائی کو مزید محدود کیا جائے اور ایسے قوانین متعارف کرائے جائیں جو مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کو روک سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق قوانین میں بھی اصلاحات زیر غور آئیں گی، تاکہ عوام کے جمہوری حقِ احتجاج اور سکیورٹی خدشات کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔

ریاستی حکومت کے مطابق مجوزہ قانون سازی کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مجموعی طور پر عوامی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ بونڈی فائرنگ کے بعد نیو ساؤتھ ویلز میں گن کنٹرول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات پر عوامی اور سیاسی سطح پر بحث میں تیزی آ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پارلیمنٹ کا یہ ہنگامی اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی حکومت اس واقعے کو ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے نتائج نہ صرف نیو ساؤتھ ویلز بلکہ پورے آسٹریلیا میں گن کنٹرول پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.