پیرس — یورپی یونین کی پارلیمنٹ بدھ کو ایک ایسی اسکیم پر ووٹ دینے جا رہی ہے جس کے تحت اسقاطِ حمل پر سخت پابندیاں رکھنے والے ممالک کی خواتین کسی دوسرے رکن ملک میں مفت اسقاطِ حمل کی سہولت حاصل کر سکیں گی۔
’’مائی وائس، مائی چوائس‘‘ کے نام سے پیش کیے گئے شہری اقدام میں تجویز دی گئی ہے کہ یورپی یونین کے بجٹ سے ایک فنڈ قائم کیا جائے، جس کے ذریعے ان ممالک کی خواتین کے اخراجات پورے کیے جائیں جہاں اسقاطِ حمل پر تقریباً مکمل پابندی ہے، جیسے مالٹا اور پولینڈ، یا جہاں اس تک عملی رسائی محدود ہے، جیسے اٹلی اور کروشیا۔
یورپ میں عمومی رجحان اسقاطِ حمل تک رسائی میں توسیع کا رہا ہے۔ برطانیہ نے حالیہ برسوں میں اس عمل کو مجرمانہ دائرے سے نکالا ہے جبکہ فرانس نے اسے آئینی آزادی کا درجہ دیا ہے۔ اس کے باوجود انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے، جن میں سے کئی اسقاطِ حمل کی مخالفت کرتی ہیں۔
اس تجویز کے حامیوں، جن میں اسقاطِ حمل کے حقوق کے لیے مہم چلانے والے کارکنان اور یورپی پارلیمنٹ کے بائیں، وسط اور کچھ مرکز دائیں بازو کے اراکین شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر محفوظ طریقوں میں کمی آئے گی اور ان خواتین کی مدد ہو سکے گی جو بیرونِ ملک اس عمل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔ مالٹا میں دستخطی مہم سے وابستہ ڈاکٹر ازابیل اسٹیبل کے مطابق، ’’یہ ہمیں دیگر یورپی شہریوں کے برابر سطح پر لے آئے گا۔‘‘
دوسری جانب ناقدین، جن میں انتہائی دائیں اور بعض مرکز دائیں بازو کے اراکین شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ تجویز قومی قوانین اور روایتی عیسائی اقدار میں مداخلت کے مترادف ہے۔
اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ دوپہر کے فوراً بعد متوقع ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس کے بعد یورپی کمیشن کے پاس مارچ تک یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوگا کہ آیا اس تجویز کو عملی شکل دی جائے، حالانکہ ماضی میں ایسے دیگر شہری اقدامات کامیاب نہیں ہو سکے۔
ووٹنگ سے قبل مخالف گروہوں نے، جن میں انسدادِ اسقاطِ حمل حقوق کی تنظیم ’’ون آف اَس‘‘ اور یورپی سینٹر فار لا اینڈ جسٹس شامل ہیں، یورپی پارلیمنٹ میں تقریبات اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا۔ ان گروہوں نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اسقاطِ حمل کے بجائے زچگی اور ماؤں کی معاونت کے لیے مزید اقدامات کرے۔
پارلیمانی بحث کے دوران انتہائی دائیں بازو کے پیٹریاٹس فار یورپ گروپ کی رکن الزبتھ ڈیرنگر نے کہا کہ خواتین کو زیادہ آزاد قوانین والے ممالک میں بھیجنا قومی نظاموں پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق، ’’طاقت کا یہ نظریاتی غلط استعمال وہ چیز ہے جسے ہم یورپی یونین کی سطح پر قبول نہیں کریں گے۔‘‘