عمر کے تنازع پر پاکستان کا سخت ردِعمل، یو ایس اوپن جونیئر 2025 اور برٹش اوپن جونیئر اسکواش 2026 سے دستبرداری کا اعلان

جونیئر یو ایس اوپن: دستبرداری کے باوجود شرکت پر پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا امکان

پاکستان نے یو ایس اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2025 اور صد سالہ برٹش اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2026 سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان اسکواش فیڈریشن (پی ایس ایف) نے دونوں عالمی مقابلوں کے منتظمین کے متنازع فیصلوں کے خلاف بطور احتجاج کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اسکواش فیڈریشن نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستانی جونیئر کھلاڑیوں کی عمر سے متعلق شکوک کی بنیاد پر ان کی کیٹیگریز تبدیل کرنا ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے، جس کے باعث دونوں ایونٹس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق یو ایس اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ امریکی ریاست پینسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں 20 سے 23 دسمبر تک شیڈول ہے، جبکہ برٹش اوپن جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2026 برمنگھم میں 2 سے 6 جنوری کے دوران کھیلی جانی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ایونٹس کے منتظمین نے پاکستانی کھلاڑیوں کی عمروں پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی اصل رجسٹرڈ کیٹیگریز تبدیل کر دیں، جس کی بعد ازاں عالمی اسکواش فیڈریشن اور یورپی اسکواش فیڈریشن نے بھی توثیق کر دی۔

فیصلے کے تحت:

  • بوائز انڈر 19 میں رجسٹرڈ راحیل وکٹر کو انڈر 13 کیٹیگری میں منتقل کیا گیا،

  • محمد علی راجاس کو انڈر 13 سے انڈر 15،

  • نعمان خان اور احمد ریان خان کو انڈر 15 سے انڈر 17،

  • جبکہ اذان علی خان، محمد عمیر عارف اور عبید اللہ کو انڈر 17 سے انڈر 19 کیٹیگری میں منتقل کر دیا گیا۔

اسی طرح پشاور سے تعلق رکھنے والی اور درجنوں بین الاقوامی جونیئر ایونٹس جیتنے والی ماہنور علی کو گرلز انڈر 13 سے گرلز انڈر 15 کیٹیگری میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ دیگر پاکستانی جونیئر کھلاڑیوں عبداللہ نواز، محمد یحییٰ خان اور کئی دیگر کی کیٹیگریز میں بھی تبدیلی کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد پہلے ہی یو ایس اوپن جونیئر میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ چکی ہے اور وہاں بھرپور پریکٹس کر رہی ہے، جبکہ مزید کھلاڑیوں کی روانگی بھی طے تھی۔ اچانک فیصلوں کے باعث نہ صرف کھلاڑی بلکہ کوچز اور والدین میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

پاکستان اسکواش کے حلقوں میں اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی یو ایس اوپن جونیئر اور برٹش جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں سے شاندار کارکردگی کی توقع کی جا رہی تھی۔

اسکواش ماہرین کے مطابق پاکستان کی دستبرداری نہ صرف جونیئر کھلاڑیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسکواش انتظامی اداروں کے فیصلوں پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے