ڈھاکا – ایک ہفتہ قبل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے بنگلہ دیش کے انقلابی طلبہ رہنما اور انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے، جس کے بعد دارالحکومت ڈھاکا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھارت کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے اور پرتشدد واقعات شروع ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ڈھاکا کے کارواں بازار کے علاقے میں واقع ایک اخبار کے دفتر کو آگ لگا دی، جبکہ اسی علاقے میں ایک اور اخبار کے دفتر کا سامان باہر نکال کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ مظاہرین نے شریف عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
شریف عثمان ہادی کو گزشتہ جمعہ ڈھاکا میں موٹر سائیکل سوار نقاب پوش حملہ آوروں نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ انہیں فوری طور پر علاج کے لیے سنگاپور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جمعرات کی شب دم توڑ گئے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق عثمان ہادی کو آئندہ قومی انتخابات میں ڈھاکا سے ایک مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔ واقعے کے وقت وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں جا رہے تھے۔
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق مرکزی ملزم کی شناخت فیصل کریم مسعود کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ موٹر سائیکل چلانے والے کی شناخت عالمگیر شیخ کے طور پر ہوئی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد غیر قانونی طور پر بھارتی سرحد سے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے اور واردات کے بعد بھارت فرار ہو گئے۔
اب تک اس کیس میں 14 افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ گرفتار شدگان میں فیصل کریم مسعود کے والد ہمایوں کبیر، والدہ ہاسی بیگم، اہلیہ شاہدہ پروین سمیہ اور اس کا بھائی واحد احمد سیپو شامل ہیں۔
ادھر عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے قتل کو انتخابات سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خون اور دہشت کے ذریعے جمہوری عمل کو روکا نہیں جا سکتا۔ حکومت نے شریف عثمان کی شہادت پر ہفتے کے روز ملک بھر میں یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ طلبہ تحریک کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو 15 برس طویل اقتدار چھوڑ کر 5 اگست کو بھارت فرار ہونا پڑا تھا۔ بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والی شیخ حسینہ واجد کو نومبر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جن میں عوام پر طاقت کے بے جا استعمال کے واقعات شامل ہیں، جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شریف عثمان ہادی کی ہلاکت نے بنگلہ دیش کی داخلی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
