امریکا کی جانب سے آئی سی سی کے دو ججز پر پابندیاں، عدالت کا سخت ردِعمل

امریکا کی جانب سے آئی سی سی کے دو ججز پر پابندیاں، عدالت کا سخت ردِعمل

واشنگٹن / دی ہیگ – بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے جمعرات کو امریکا کی جانب سے عدالت کے دو ججز پر عائد کی گئی پابندیوں کو عدالتی آزادی پر "سخت حملہ” قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

امریکی حکومت نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے دو ججز پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر اسرائیل کے خلاف مبینہ طور پر سیاسی اور غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے ججز میں گوچا لارڈکی پانڈزی (جارجیا) اور اردینبالسورین دامڈن (منگولیا) شامل ہیں۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ دونوں ججز اسرائیلی شہریوں کے خلاف گرفتاری یا عدالتی کارروائی کی کوششوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا آئی سی سی کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی نوعیت کی قانون سازی کے خلاف سخت موقف برقرار رکھے گا، کیونکہ یہ اقدامات امریکا اور اسرائیل کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن اسرائیلی شہریوں کے خلاف کسی بھی بین الاقوامی قانونی کارروائی کی مخالفت جاری رکھے گا اور ایسے تمام اقدامات کا جواب دیا جائے گا جنہیں امریکا غیر منصفانہ یا سیاسی دباؤ کا حصہ سمجھتا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ دو ججوں کے خلاف عائد کی گئی پابندیاں عدالت کی آزادی پر براہِ راست اور سنگین حملہ ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق،
“اس طرح کے اقدامات ان ججوں اور پراسیکیوٹرز کو نشانہ بناتے ہیں جنہیں ریاستی فریقین نے منتخب کیا ہے، اور یہ قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب عدالتی ذمہ داران کو قانون کے نفاذ پر دھمکیوں کا سامنا ہو تو بین الاقوامی قانونی نظام خود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔”

سیاسی اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت امریکا اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر عدالتی خودمختاری اور بین الاقوامی انصاف کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے