امریکی فوج پر حملے کے جواب میں شام میں داعش کے ٹھکانوں پر شدید بمباری

0

واشنگٹن / دمشق – امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں شام میں داعش کے ٹھکانوں کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں وسطی شام میں پالمیرا کے قریب امریکی فوجیوں پر حملے کے بعد کی گئیں۔

شام میں امریکی کارروائیوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف یہ حملے وعدے کے مطابق جاری ہیں اور ان کارروائیوں کو شامی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر حملہ کرنے والوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق وسطی شام میں لڑاکا طیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کی مدد سے داعش کے متعدد ٹھکانوں اور اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں پالمیرا میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے براہِ راست جواب میں کی گئیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ پالمیرا حملے کے بعد اتحادی افواج کے تعاون سے شام اور عراق میں مجموعی طور پر 10 فوجی آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران داعش کے 70 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں اردن کے لڑاکا طیاروں نے بھی حصہ لیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق شام اور عراق میں کی گئی ان کارروائیوں کے نتیجے میں 23 داعش شدت پسند یا تو مارے گئے یا گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پالمیرا میں ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک شہری ہلاک ہوا تھا، جس کے بعد امریکا نے داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں میں نمایاں شدت پیدا کی۔

دوسری جانب شامی حکومت نے بھی داعش کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.