امریکی ارکانِ کانگریس کا بھارت کو ’’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

0

واشنگٹن – امریکا کے متعدد ارکانِ کانگریس نے بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘‘ (Country of Particular Concern) قرار دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکی رہنماؤں گلین گروتھمین، وکی ہرزلر اور آصف محمود نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی عقائد کے حوالے سے ریاستی دباؤ اور پابندیاں مسلسل سخت ہوتی جا رہی ہیں، جس سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں نافذ تبدیلی مذہب سے متعلق قوانین کو مبینہ طور پر ناجائز گرفتاریوں اور مذہبی اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی قانون سازوں کے مطابق ان قوانین کی آڑ میں مذہبی آزادی کو محدود کیا جا رہا ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔

امریکی ارکانِ کانگریس نے مزید نشاندہی کی کہ مسلم لڑکوں اور ہندو لڑکیوں کے درمیان شادیوں کو منفی اور متنازع رنگ دے کر سماجی نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے، جبکہ بعض بھارتی ریاستوں، خصوصاً مدھیا پردیش میں جبری تبدیلی مذہب کے الزامات پر سزائے موت تجویز کیے جانے جیسے اقدامات نہایت تشویشناک ہیں۔

خط میں واضح کیا گیا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان مضبوط اور پائیدار تعلقات اسی صورت ممکن ہیں جب بھارت مذہبی آزادی کے عالمی معیارات کا احترام کرے اور متنازع تبدیلی مذہب قوانین کو ختم کرے۔

امریکی قانون سازوں کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور اس شعبے میں بھارت کی موجودہ پالیسیوں پر عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.