اسرائیلی فوج کسی بھی وقت دشمنوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے، آرمی چیف ایال زمیر
تل ابیب — اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کسی بھی وقت اپنے دشمنوں کے خلاف حملہ کرنے کی مکمل صلاحیت اور تیاری رکھتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر بلا جھجک کارروائی کی جائے گی۔
اپنے بیان میں اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا، تاہم بعد ازاں یہ تنازع وسعت اختیار کر گیا اور اس میں یمن اور ایران سمیت دیگر فریق بھی شامل ہوتے چلے گئے۔
ایال زمیر نے کہا کہ اسرائیلی فوج جہاں بھی ضرورت محسوس کرے گی، وہاں کارروائی کرے گی اور دشمنوں کے خلاف اقدامات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے اسرائیل کے خلاف سرگرم عناصر کو مالی اور عسکری معاونت فراہم کی اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پر ایک اور حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس صورتِ حال کے لیے تیار ہے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا اشارہ ہیں، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔