آسٹریلیا میں اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس آج ظلب، دہشت گرد نعروں اور مظاہروں پر بھی پابندی ہوگی
سڈنی — آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمنٹ کو پیر کے روز ہنگامی طور پر طلب کیا گیا، جہاں مجوزہ نئے قوانین پر ووٹنگ کی جا رہی ہے جن کے تحت آتشیں اسلحے کی ملکیت پر سخت پابندیاں، دہشت گرد علامتوں کی نمائش پر پابندی اور عوامی مظاہروں کو محدود کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہونے والی مہلک فائرنگ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں یہودی ہنوکا کی تقریب کے دوران 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے نے پورے ملک کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریاستی پارلیمنٹ کو دو روزہ خصوصی اجلاس کے لیے واپس بلایا گیا ہے، جہاں قانون سازی کے تحت:
-
عام شہری کے لیے آتشیں اسلحے کی حد چار تک مقرر کی جائے گی
-
کسانوں اور مخصوص پیشہ ور افراد کے لیے یہ حد دس اسلحوں تک ہو گی
اگرچہ آسٹریلیا میں 1996 کے اجتماعی قتلِ عام کے بعد دنیا کے سخت ترین گن کنٹرول قوانین نافذ ہیں، تاہم بونڈی بیچ حملے نے حکام کے مطابق موجودہ قوانین میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز میں اس وقت اسلحہ رکھنے کی کوئی عددی حد مقرر نہیں، بشرطیکہ مالک پولیس کو اس کی معقول وجہ فراہم کرے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ریاست میں 70 سے زائد افراد 100 سے زیادہ بندوقوں کے مالک ہیں، جبکہ ایک لائسنس ہولڈر کے پاس 298 آتشیں اسلحہ رجسٹرڈ ہیں۔
حملے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق حملے کے ایک مبینہ ملزم ساجد اکرم (50) کو موقع پر ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کے قبضے سے چھ آتشیں اسلحہ برآمد ہوئے۔ ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم پر قتل اور دہشت گردی سمیت 59 سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق دونوں ملزمان کئی ماہ سے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور انہوں نے ہجوم پر بم پھینکنے کی بھی کوشش کی، تاہم دھماکہ نہیں ہوا۔ پولیس کی رپورٹ میں تصاویر بھی شامل ہیں جن میں باپ بیٹا نیو ساؤتھ ویلز کے ایک دور افتادہ دیہی علاقے میں اسلحہ کی تربیت لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
پولیس کو اکتوبر میں ایک ویڈیو بھی ملی جس میں ایک ملزم دولتِ اسلامیہ (داعش) کی علامت کے سامنے بیٹھ کر صیہونی اقدامات کی مذمت اور حملے کے جواز سے متعلق بیانات دے رہا ہے۔
مظاہروں اور نعروں پر پابندیاں
مجوزہ قانون کے تحت پولیس کو احتجاجی مظاہروں کے دوران نقاب یا چہرہ ڈھانپنے پر پابندی نافذ کرنے کے مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔ ریاستی حکومت نے ’’انتفادہ کو عالمی سطح پر بنائیں‘‘ جیسے نعروں پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے اعتراف کیا کہ قانون کی مخالفت متوقع ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم ایک ایسی متنوع کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں جو مختلف مذاہب، نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب کو امن کے ساتھ جوڑے رکھیں۔”
شاہی کمیشن کا اعلان
ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بونڈی بیچ حملے پر شاہی کمیشن قائم کیا جائے گا، جو آسٹریلیا کی سب سے طاقتور سرکاری تحقیقات ہوتی ہے۔ یہودی رہنماؤں نے اس واقعے پر قومی سطح کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
حزبِ اختلاف کی لبرل پارٹی کی رہنما سوسن لی نے بھی شاہی کمیشن کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کر کے اس کے دائرہ کار پر تبادلہ خیال کیا ہے۔