ترک انٹیلی جنس کی بڑی کارروائی، افغانستان–پاکستان سرحدی علاقے سے داعش خراسان کا سینئر رکن گرفتار
انقرہ – ترک انٹیلی جنس ایجنٹوں نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ایک علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کے ایک سینئر رکن کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں ترکی اور دیگر ممالک میں ممکنہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت مہمت گورین کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان میں قائم داعش کی خراسان شاخ سے وابستہ تھا۔ مشتبہ دہشت گرد کو ایک خفیہ اور مربوط انٹیلی جنس آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا، جس کے بعد اسے ترکی منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہمت گورین ترک شہری ہے، جو مبینہ طور پر داعش میں شامل ہوا تھا اور اسے ترکی، پاکستان، افغانستان اور یورپ میں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائی کس تاریخ کو انجام دی گئی اور آیا افغان یا پاکستانی حکام اس آپریشن میں شامل تھے یا نہیں۔
انادولو کے مطابق گورین کی گرفتاری کے دوران داعش خراسان کے بھرتی کے طریقہ کار، تنظیمی نیٹ ورک اور مستقبل میں منصوبہ بند دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ داعش اس سے قبل ترکی میں کئی مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جن میں یکم جنوری 2017 کو استنبول کے ایک نائٹ کلب پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ترک حکام کے مطابق اس کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششوں میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔