اسرائیلی فورسز نے ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں اپنے شہری گرفتارکرلیا

0

تل ابیب — اسرائیلی حکام نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک 40 سالہ اسرائیلی شہری کو ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی ہدایت پر سیکیورٹی جرائم کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے، یہ گرفتاری ایران کی جانب سے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ایرانی شہری کو پھانسی دیے جانے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔

پولیس اور اسرائیل کی داخلی خفیہ ایجنسی شن بیٹ کے مشترکہ بیان کے مطابق ملزم کا تعلق رشون لیزیون شہر سے ہے اور اسے اس ماہ ایک مشترکہ کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے گھر کے قریب فوٹو گرافی کرتے ہوئے شناخت کیا گیا تھا اور ایرانی ہینڈلرز سے رابطے کے دوران اسے اس مقصد کے لیے ایک ڈیش کیمرہ خریدنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

حکام کے مطابق مشتبہ شخص نے مختلف مالی رقوم کے عوض اپنے شہر میں واقع رہائش گاہ اور دیگر مقامات پر لی گئی تصاویر ایرانی رابطوں کو منتقل کیں۔ مئی میں بھی اسرائیلی حکام نے بینیٹ کی جاسوسی کے الزام میں ایک 18 سالہ نوجوان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

یہ گرفتاری ان متعدد مقدمات کی تازہ کڑی ہے جن میں اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنے ہی شہریوں پر دشمن ملک کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے بھی ایک ایرانی شہری کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دینے کا اعلان کیا تھا۔

ایران اور اسرائیل، جو ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے اور دیرینہ حریف ہیں، باقاعدگی سے ایک دوسرے پر جاسوسی اور تخریب کاری کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ جون میں دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسرائیل نے ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات سمیت رہائشی علاقوں پر حملے کیے، جن کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کیے اور بعد ازاں امریکہ بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہو گیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.