پوپ لیو کا اپنے عہدِ پاپائیت میں پہلے کرسمس خطبے میں غزہ کے فلسطینیوں کے حالات پر سخت اظہارِ تشویش

0

ویٹیکن سٹی — پہلے امریکی پوپ لیو نے اپنے عہدِ پاپائیت کے پہلے کرسمس کے موقع پر غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید سردی، بارش اور آندھیوں میں خیموں میں رہنے پر مجبور لوگوں کی حالت مسیح کی پیدائش کے پیغام سے متصادم ہے۔

سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصطبل میں پیدائش اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے دنیا کے لوگوں کے درمیان “اپنا نازک خیمہ نصب کیا”، اور سوال اٹھایا کہ پھر غزہ کے ان خیموں کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے جو موسم کی سختیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

پوپ لیو، جو مئی میں مرحوم پوپ فرانسس کے بعد منتخب ہوئے، عموماً اپنے خطبات میں سیاسی حوالوں سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار انہوں نے غیر معمولی طور پر براہِ راست انداز اپنایا۔ کرسمس کے بعد کی برکات میں انہوں نے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی صورتِ حال پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ غریبوں اور اجنبیوں کی مدد سے انکار دراصل خدا سے انکار کے مترادف ہے۔

انہوں نے جنگوں کو انسانیت کے لیے “ملبے اور کھلے زخموں” کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے دفاع آبادیوں کا جسم اور نوجوانوں کے ذہن ان تنازعات کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، جہاں انہیں اگلی صفوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔

اپنے سالانہ “Urbi et Orbi” پیغام میں پوپ نے دنیا بھر میں جاری جنگوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور یوکرین، سوڈان، مالی، میانمار اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا میں جاری تنازعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں عوام تشدد کے ذریعے تذلیل کا شکار ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کی مدد سے سنجیدہ اور باوقار مذاکرات کی طرف بڑھیں۔

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے حوالے سے پوپ لیو نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی “قدیم دوستی” کو بحال کریں اور مفاہمت و امن کے لیے عملی اقدامات کریں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.