جاپان کی کابینہ نے 785 بلین ڈالر کے ریکارڈ بجٹ کی منظوری دی، قرضوں پر قابو پانے کا عزم

0

ٹوکیو — جاپان کی کابینہ نے جمعہ کو مالی سال 2026–27 کے لیے ریکارڈ 122.3 ٹریلین ین (تقریباً 785 بلین ڈالر) کے بجٹ کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد ملک کی فعال مالیاتی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پانا ہے۔

وزیر اعظم سانے تاکائیچی کی قیادت میں منظور کردہ یہ بجٹ اس سال کے ابتدائی بجٹ 115.2 ٹریلین ین سے بڑھا ہوا ہے، لیکن اس میں سرکاری بانڈز کے نئے اجراء میں صرف معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی منصوبہ بندی کے تحت نئے بانڈ کا اجراء 29.6 ٹریلین ین ہوگا، جو پچھلے سال کے 28.6 ٹریلین ین کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، لیکن قرض پر انحصار کی شرح 1998 کے بعد سب سے کم 24.2 فیصد تک آ جائے گی۔

اہم نکات

  • آمدنی میں اضافہ: ٹیکس کی مد میں ریونیو 7.6 فیصد بڑھ کر ریکارڈ 83.7 ٹریلین ین تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے تعاون فراہم کرے گا، حالانکہ یہ رقم مکمل طور پر بڑھتے ہوئے عوامی سروسز اور سماجی فلاحی پروگراموں کے اخراجات کو پورا نہیں کرے گی۔

  • سود اور قرض کی خدمت: قرض کی خدمت کے اخراجات، یعنی سود کی ادائیگیوں، 10.8 فیصد بڑھ کر 31.3 ٹریلین ین تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جس میں شرحِ سود 3.0 فیصد رکھی گئی ہے — جو گزشتہ 29 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ بینک آف جاپان نے انتہائی ڈھیلی مانیٹری پالیسی کو ختم کیا ہے۔

  • قرضوں کے بوجھ کا پس منظر: جاپان پہلے ہی ترقی یافتہ دنیا میں سب سے زیادہ سرکاری قرض کے حامل ممالک میں سے ایک ہے — اس کا حجم معیشت (GDP) کے دوگنے سے زائد ہے — جس سے اس کے مالیاتی استحکام کی صورتِ حال نازک ہے۔

حکومت کا نقطہ نظر

تاکائیچی انتظامیہ نے سرمایہ کاروں کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ قرضوں کے اجراء یا ٹیکس میں بڑے کٹوتیوں سے گریز کرے گی۔ بجٹ میں حکومتی ترجیح روشن ہے کہ مالیاتی استحکام برقرار رکھا جائے، جبکہ سماجی بہبود، دفاع، اور دیگر عوامی خدمات کے لیے ضروری وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔

نئے مالیاتی اہداف

وزیر اعظم تاکائیچی نے روایتی سالانہ پرائمری بجٹ بیلنس کو مالیاتی استحکام کے بنیادی ہدف کے طور پر برقرار رکھنے کے خیال کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہے، اور اس کے بدلے ایک نیا لچکدار ہدف متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے وہ اگلے کئی سالوں تک اخراجات میں کچھ آزادانہ گنجائش پیدا کر سکیں گے۔

یہ ریکارڈ بجٹ اس وسیع اقتصادی چیلنج کا عکس ہے جس کا سامنا جاپان کو ہے — بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، بڑھتے ہوئے سماجی اخراجات، اور عالمی مالیاتی ماحول میں سود کی بلند ہوتی ہوئی شرحوں کے درمیان — جبکہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مالیاتی حکمتِ عملی کو بھی متوازن رکھنا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.