اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر چار فریقی اتحاد کا سخت ردعمل

0

قاہرہ — اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کے فیصلے پر مصر، ترکیہ، جبوتی اور صومالیہ پر مشتمل چار فریقی اتحاد نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے اور صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعہ کے روز مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور جبوتی کے وزیر خارجہ عبد القادر حسین عمر سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یکطرفہ اقدام کی مذمت

چاروں وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر اسرائیلی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ وزراء نے کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا جو صومالی ریاست کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے یا ملک میں استحکام کی بنیادوں کو کمزور کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ صومالیہ کے جائز ریاستی اداروں کی حمایت ناگزیر ہے اور صومالی ریاست کی وحدت کے منافی کسی بھی متوازی وجود کو مسلط کرنے کی کوشش کو سختی سے مسترد کیا جائے گا۔

بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ

چاروں ممالک کے وزراء نے اس امر پر زور دیا کہ ریاستوں کے علاقوں کے بعض حصوں کی آزادی کو تسلیم کرنا ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی نظام کے استحکام کا بنیادی ستون ہے، جس پر کسی بھی بہانے سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

متوازی اداروں کی مخالفت اور فلسطینی مؤقف

وزراء نے نئی حقیقت مسلط کرنے یا متوازی ادارے قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا جو بین الاقوامی قانونی حیثیت کے منافی ہو اور خطے میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے امکانات کو نقصان پہنچائے۔

بیان میں فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو بھی دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا گیا۔

پس منظر: صومالی لینڈ کا معاملہ

واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد موغادیشو سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تک اسے اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر اسے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے اندر ایک خودمختار خطہ ہی تصور کیا جاتا رہا ہے۔

ایتھوپیا معاہدہ اور علاقائی کشیدگی

2024 کے آغاز میں ایتھوپیا نے صومالی لینڈ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ادیس ابابا کو بربرہ بندرگاہ میں بحیرہ احمر تک بحری رسائی اور فوجی اڈہ ملنا تھا، جبکہ بدلے میں صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کیے جانے کی بات کی گئی۔

اس معاہدے نے موغادیشو میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، جہاں صومالی حکومت نے اسے اپنی خودمختاری پر کھلی جارحیت قرار دیا۔ اسی تناظر میں صومالیہ نے مصر اور ترکیہ کے ساتھ اپنے فوجی اور سیاسی اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔

مصر کا سخت مؤقف

مصر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ صومالیہ کی سلامتی اور وحدت اس کی قومی سلامتی کا لازمی جزو ہے، خاص طور پر ایتھوپیا کے ساتھ نشاۃِ ثانیہ ڈیم (GERD) کے تنازع کے پس منظر میں۔

حال ہی میں قاہرہ میں صومالی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے واضح پیغام دیا تھا کہ مصر صومالیہ کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

صدر السیسی نے کہا کہ مصر ان عناصر کا مقابلہ کرے گا جو صومالی عوام کو دھمکانے کی کوشش کریں گے، خصوصاً اگر صومالیہ کی جانب سے باضابطہ مدد کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صومالیہ ایک عرب ملک ہے اور اپنی خودمختاری کو خطرے کی صورت میں مشترکہ عرب دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔

فوجی و اسٹریٹجک شراکت داری

اگست 2024 میں مصر اور صومالیہ کے درمیان ایک اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی گئی، جس کے تحت فوجی تعاون پروٹوکول اور مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔
بعد ازاں جنوری 2025 میں تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے کے لیے ایک مشترکہ سیاسی اعلامیہ پر دستخط کیے گئے، جس میں صومالیہ میں استحکام کی حمایت کے لیے افریقی یونین مشن کے تحت مصری افواج کی تعیناتی کے اقدامات بھی شامل تھے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.