تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان شدید سرحدی جھڑپوں کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق
بنکاک — تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے ہفتے کے روز اپنی سرحد پر جاری شدید جھڑپوں کو روکنے کے لیے باضابطہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے، جو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں کی بدترین لڑائی تھی۔
دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق جنگ بندی ہفتے کے روز دوپہر 0500 گرینچ وقت سے نافذ ہو گئی ہے، اور فریقین اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ وہ مزید نقل و حرکت کے بغیر اپنی موجودہ فوجی تعیناتی کو برقرار رکھیں گے۔ کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اضافی کمک کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے اور مسئلے کے طویل مدتی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔
یہ معاہدہ تھائی لینڈ کے وزیر دفاع نتھافون ناکرفنیت اور کمبوڈیا کے وزیر دفاع ٹی سیہا کے درمیان طے پایا، جس سے تقریباً 20 دنوں سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ ان جھڑپوں میں لڑاکا طیاروں کے حملے، راکٹ فائر اور توپ خانے کا استعمال شامل تھا، جن کے نتیجے میں دونوں جانب کم از کم 101 افراد ہلاک اور 50 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
دسمبر کے اوائل میں ایک سابقہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد یہ جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی تھیں، جسے اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی ثالثی سے روکا گیا تھا۔
نتھافون ناکرفنیت نے بتایا کہ اس نئی جنگ بندی کی نگرانی آسیان کی ایک مبصر ٹیم کرے گی، جبکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان براہ راست رابطہ بھی برقرار رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی خلاف ورزی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل سرحد کے متعدد حصوں پر گزشتہ ایک صدی سے خودمختاری کے تنازعات چلے آ رہے ہیں، جو وقتاً فوقتاً جھڑپوں اور خونریز لڑائیوں میں تبدیل ہوتے رہے ہیں۔