حزب اللہ کا لبنانی فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے انکار، اندرونی تقسیم کو مسترد کر دیا

0

تہران — حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی داموش نے واضح کیا ہے کہ مزاحمتی تنظیم لبنانی فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی طرف نہیں جائے گی اور ملک میں اندرونی تقسیم کو ہر صورت مسترد کرتی ہے۔

بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں سیدہ زینب مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ داموش نے کہا کہ دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی کو اسرائیلی جارحیت رکوانے اور مقبوضہ علاقوں سے انخلاء سے جوڑنے کا دعویٰ وقت کے ساتھ بے اثر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق فوج کی جانب سے نام نہاد “پہلا مرحلہ” تقریباً مکمل ہونے کے باوجود اسرائیلی حملے بند نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی انخلاء عمل میں آیا، بلکہ اسرائیلی کارروائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔

انہوں نے لبنانی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو اسرائیلی ذمہ داریوں سے الگ کرنا ایک بڑی غلطی ہے اور لیتانی کے جنوب میں طے شدہ اقدامات کو یکطرفہ عملدرآمد کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات باہمی ہیں اور جب تک اسرائیل حملے نہیں روکتا، مقبوضہ پوزیشنوں سے دستبردار نہیں ہوتا، شہریوں کی واپسی اور تعمیر نو کی اجازت نہیں دیتا، اس وقت تک پہلے مرحلے کو مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔

شیخ داموش نے کہا کہ خودمختاری صرف فوج کی تعیناتی سے حاصل نہیں ہوتی جب کہ اسرائیل مسلسل لبنان کی زمینی، سمندری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔ انہوں نے جاری اسرائیلی جارحیت کے باوجود لبنانی اقدامات کو اسرائیلی اور امریکی سطح پر نظر انداز کیے جانے کو “مفت مراعات” کا تسلسل قرار دیا۔

ان کے مطابق واشنگٹن کے پاس حملے رکوانے اور انخلاء نافذ کرانے کی صلاحیت موجود ہے، مگر امریکہ اسرائیلی جارحیت میں مکمل طور پر شریک ہے اور لبنان کے خلاف روزانہ کی دھمکیوں اور حملوں میں براہ راست کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کا مقصد لبنان اور اس کی فوج کو اندرونی تصادم کی طرف دھکیلنا اور حزب اللہ کو پسپائی یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔

خطاب کے اختتام پر شیخ داموش نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مزاحمت نہ لبنانی فوج سے ٹکراؤ کرے گی، نہ اندرونی انتشار کی اجازت دے گی اور نہ ہی ہتھیار ڈالے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے خاتمے تک مزاحمت کا حق برقرار رہے گا اور کسی بھی قسم کے حملے، قتل، محاصرے، پابندیاں یا میڈیا مہم اس عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.