حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنا امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے: نعیم قاسم
بیروت — مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ ایجنڈا ہے، جبکہ اسرائیل خود جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیل درجنوں بار معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے، جس کے باعث لبنان کی حکومت پر بھی یہ لازم نہیں رہتا کہ وہ یکطرفہ طور پر امن معاہدے پر عمل درآمد کرے۔
جنوبی لبنان میں فوجی تعیناتی کی شرط
حزب اللّٰہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کے لیے ایک ہی بنیادی شرط ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کرے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے لیتانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی اسی صورت ممکن تھی جب اسرائیل اپنی جارحیت بند کرتا، تاکہ
-
قیدیوں کی رہائی
-
اسرائیلی افواج کا انخلاء
-
اور متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جا سکے
امریکا اور اسرائیل پر الزام
نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا اور اسرائیل کا اصل ہدف حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنا ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ بندی کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل خود ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حزب اللّٰہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔