ڈھاکا — بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کے انتقال کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
بنگلا دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا جگر کے شدید عارضے میں مبتلا تھیں اور گزشتہ کئی روز سے اسپتال میں زیر علاج تھیں، جہاں انہیں وینٹی لیٹر اور لائف سپورٹ پر رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے گزشتہ روز ان کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔
طبی تفصیلات
خالدہ ضیا کے علاج کی نگرانی کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق کے مطابق “انہیں باقاعدگی سے ڈائیلاسس کی ضرورت تھی، جیسے ہی ڈائیلاسس روکا جاتا، ان کی حالت بگڑ جاتی تھی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ عمر اور متعدد پیچیدہ بیماریوں کے باعث ایک ساتھ تمام امراض کا علاج ممکن نہیں رہا تھا۔
سیاسی پس منظر
خالدہ ضیا 1991 سے 1996 تک بنگلا دیش کی وزیراعظم رہیں اور ملک کی سیاست میں ایک طویل عرصے تک مرکزی کردار ادا کرتی رہیں۔ وہ بنگلا دیش کی سیاست میں ایک مضبوط اور اثر انگیز رہنما سمجھی جاتی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا کے صاحبزادے چند روز قبل ہی بنگلا دیش پہنچے تھے تاکہ والدہ کی عیادت کر سکیں۔
قومی ردِعمل متوقع
ان کے انتقال پر ملک بھر میں سیاسی، سماجی اور عوامی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تعزیتی بیانات متوقع ہیں۔
