چین نے تائیوان کے گرد غیر معمولی طور پر وسیع فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے جن کے دوران منگل کے روز راکٹ فائر کیے گئے اور بمبار طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور کوسٹ گارڈ کے متعدد جہازوں کو تعینات کیا گیا تاکہ جزیرے کی ممکنہ ناکہ بندی کی عملی مشق کی جا سکے۔ چینی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے مطابق شام 6 بجے تک لائیو فائرنگ جاری رہی، جبکہ تائیوان کے اردگرد اور چینی ساحل کے قریب پانچ مختلف مقامات پر سمندری اور فضائی حدود میں کارروائیاں کی گئیں۔
چین نے ان مشقوں کو “جسٹس مشن 2025” کا نام دیا ہے۔ یہ مشقیں امریکہ کی جانب سے تائیوان کو 11.1 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکج کے اعلان کے صرف 11 دن بعد شروع ہوئیں اور مکمل کوریج اور جزیرے کے انتہائی قریب ہونے کے اعتبار سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائیاں سمجھی جا رہی ہیں۔ چینی میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے پیر کے روز دو اضافی لائیو فائر زون بھی شامل کیے تھے۔
تائیوان کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کے مطابق تائی پے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا چین 2022 کی طرز پر براہ راست تائیوان کی جانب میزائل فائرنگ بھی کرتا ہے یا نہیں۔ ان کے بقول، بیجنگ ان مشقوں کو زمینی اہداف، بشمول امریکی ساختہ ہائی موبیلٹی آرٹلری راکٹ سسٹمز (HIMARS)، کو نشانہ بنانے کی تربیت کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔
تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کا طرزِ عمل ایک ذمہ دار بڑی طاقت سے متوقع رویے کے منافی ہے۔ ان کے مطابق فرنٹ لائن فورسز کو دفاع کے لیے تیار رکھا گیا ہے تاہم تائی پے کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔
تائیوان کی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ منگل کی صبح جزیرے کے شمال میں براہ راست فائرنگ کی گئی اور اس کا ملبہ متصل زون میں جا گرا۔ وزارت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 130 چینی فوجی طیارے اور 22 بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے جہاز تائیوان کے گرد سرگرم رہے۔
تائیوان کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کم از کم 14 چینی کوسٹ گارڈ جہاز تائیوان کے متصل زون میں گھومتے رہے اور بعض مقامات پر تائیوانی جہازوں کے ساتھ آمنے سامنے کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ اہلکار کے مطابق تائیوان نے “متوازی نیویگیشن” اور لہر سازی جیسی تکنیکوں کے ذریعے چینی جہازوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
ان مشقوں کے باعث تائیوان کے اوپر سے گزرنے والی 14 فضائی راہداریوں میں سے 11 متاثر ہوئیں، تاہم سول ایوی ایشن حکام کے مطابق بین الاقوامی پروازوں پر مجموعی اثر محدود رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق زیادہ تر تجارتی پروازیں اب جاپان کی سمت شمال مشرقی ہوائی راہداریوں کا استعمال کر رہی ہیں۔
