یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا
صنعا — یمنی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ باضابطہ طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج کی جانب سے یمن کی بندرگاہ مکلا پر فضائی کارروائی کے بعد سامنے آیا، جس میں ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی اسمگلنگ میں ملوث دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر یمنی حکام کی اجازت کے بغیر مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔ یمنی حکام کا مؤقف ہے کہ ان جہازوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر فوجی سازوسامان منتقل کیا جا رہا تھا، جو ملکی خودمختاری اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھا۔
یمنی صدارتی قیادت کونسل کے اس فیصلے کو ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خطے میں سیاسی اور عسکری اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔