بھارتی انتہا پسند جماعت شیوسینا کی بنگلا دیشی کرکٹرز کی آئی پی ایل میں شرکت کی مخالفت

0

نئی دہلی — بھارت کی انتہا پسند ہندوتوا جماعت شیوسینا نے بنگلا دیشی کرکٹرز کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شرکت کی کھل کر مخالفت کر دی ہے، جس کے بعد ایک بار پھر بھارت پر کھیل کو سیاست کی نذر کرنے کے الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہریانہ میں شیوسینا کے سربراہ نیرج سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ جماعت بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں آئی پی ایل میچز کھیلنے کی اجازت دینے کی مخالفت کرے گی۔

نیرج سیٹھی کا کہنا تھا کہ شیوسینا نے فیصلہ کیا ہے کہ بنگلا دیشی کھلاڑی بھارت میں آئی پی ایل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے بنگلا دیش پر بھارت مخالف مؤقف اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مستقبل میں مزید پابندیوں کی دھمکی بھی دی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت کھیل کو بھی سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل سے باہر رکھنے پر بھی عالمی سطح پر بھارت کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کھیل کے میدان میں نفرت انگیز سیاست نہ صرف کرکٹ جیسے عالمی کھیل کی روح کے منافی ہے بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ آئی پی ایل، جسے دنیا کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگ قرار دیا جاتا ہے، ایسے بیانات اور فیصلوں کے باعث مسلسل تنازعات کی زد میں ہے۔

بین الاقوامی کھیلوں کے ماہرین کے مطابق کرکٹ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا ہی کھیل کی بقا اور وقار کے لیے ضروری ہے، تاہم بھارت میں انتہا پسند حلقوں کی جانب سے کھیل پر دباؤ نے ایک بار پھر اس اصول کو چیلنج کر دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.