اقوام متحدہ نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے خلاف اسرائیل کی حالیہ قانون سازی سے لاکھوں افراد کے لیے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی خدمات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے پیر کو ایسے قوانین منظور کیے جن کے تحت UNRWA کا سفارتی استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کو ایجنسی کے اداروں کو پانی اور بجلی فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان قوانین کے تحت اسرائیلی حکومت کو مشرقی یروشلم میں UNRWA کی جائیدادیں ضبط کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے، جن میں ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر اور مرکزی ووکیشنل ٹریننگ سینٹر شامل ہیں۔
UNRWA کے سربراہ فلپ لازارینی نے ان اقدامات کو “اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایجنسی کو بدنام کرنے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے UNHCR کے سبکدوش ہونے والے سربراہ اور UNRWA کے سابق کمشنر فلیپو گرانڈی نے بھی اس قانون سازی کو “انتہائی بدقسمتی” قرار دیا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ UNRWA غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں لاکھوں رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرتا ہے۔
گرانڈی نے خبردار کیا کہ اگر ان لوگوں کو ان سہولیات سے محروم کیا گیا تو ان کا متبادل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگا، اور اس بات کا بڑا خطرہ ہے کہ لاکھوں افراد بنیادی خدمات سے محروم ہو جائیں گے۔
اسرائیل گزشتہ دو برسوں سے UNRWA پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور اس پر حماس کے عسکریت پسندوں کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی کے بعض ملازمین نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حصہ لیا تھا، تاہم اقوام متحدہ کی اندرونی اور بیرونی تحقیقات میں اگرچہ کچھ “غیرجانبداری سے متعلق مسائل” کی نشاندہی ہوئی ہے لیکن اسرائیل اپنے بڑے الزامات کے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکا۔
فلیپو گرانڈی نے کہا کہ UNRWA مشرق وسطیٰ میں ایک ناگزیر ادارہ ہے اور اس کے خلاف جاری بے بنیاد بیان بازی خطے میں امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول ایسے حالات میں اس تنظیم کو مزید کمزور کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔