امریکی جج نے جنوبی سوڈانی تارکین وطن کے لیے عارضی تحفظ ختم کرنے سے روک دیا
بوسٹن کے وفاقی جج اینجل کیلی نے امریکی حکومت کی جانب سے جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں تارکین وطن کو ملک بدری سے عارضی تحفظ (TPS) ختم کرنے کے منصوبے کو روک دیا ہے۔
جج کیلی، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن نے تعینات کیا تھا، نے افریقی کمیونٹیز ٹوگیدر نامی غیر منافع بخش گروپ اور چار جنوبی سوڈانی شہریوں کی ہنگامی درخواست کی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا، تاکہ انہیں دی گئی TPS حیثیت 5 جنوری کے بعد ختم نہ ہو سکے۔
جنوبی سوڈان 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ 2018 میں پانچ سالہ خانہ جنگی کے اختتام کے بعد بھی ملک کے بیشتر حصوں میں لڑائی جاری ہے، جس میں اندازاً 400,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وہاں سفر نہ کریں۔
TPS پروگرام ان تارکین وطن کو فراہم کیا جاتا ہے جن کے آبائی ممالک میں قدرتی آفات، مسلح تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات ہوں، اور یہ اہل شہریوں کو کام کرنے اور ملک بدری سے عارضی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی کارروائی غیر قانونی تھی، امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے، اور جنوبی سوڈانی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی تھی۔
تقریباً 232 جنوبی سوڈانی شہری TPS سے مستفید ہیں اور امریکہ میں محفوظ ہیں، جبکہ مزید 73 کے لیے درخواستیں زیر التوا ہیں۔ DHS کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے 5 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ جنوبی سوڈان اب TPS کے لیے اہل نہیں رہا، اور اسی طرح دیگر ممالک جیسے شام، وینزویلا، ہیٹی، کیوبا اور نکاراگوا کے شہریوں کے تحفظات ختم کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے، جن کے خلاف متعدد عدالتی چیلنجز سامنے آئے ہیں۔
TPS پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں انسانی حالات اب بھی غیر یقینی ہیں اور واپس بھیجے جانے والے شہریوں کی حفاظت اور دوبارہ انضمام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔