یمنی پارلیمنٹ: جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات خطرناک جارحیت، قبضے والے تمام مقامات اور کیمپوں سے فوری انخلا کرے

0

یمن – یمنی پارلیمنٹ نے حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل (STC) کی غیر قانونی فوجی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات امن و امان اور خطے میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

پارلیمنٹ نے عبوری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی دائرہ اختیار سے باہر قبضے والے تمام مقامات اور کیمپوں سے فوری انخلا کرے۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبوری کونسل کی مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں امن عامہ متاثر ہوا، شہری حقوق پامال ہوئے، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا اور سماجی ہم آہنگی کمزور ہوئی۔

یمنی پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات یمنی آئین، قومی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ریاستی وحدت اور خودمختاری کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ عبوری کونسل کی جانب سے بندرگاہوں کے ذریعے اسلحے کی غیر قانونی ترسیل، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے حضرموت کی مکلا بندرگاہ، سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور تنازعہ کو وسیع کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو صورتحال خطرناک جارحیت کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس سے یمن مزید تقسیم اور تشدد کا شکار ہو گا اور پڑوسی ممالک بشمول سعودی عرب اور سلطنت عمان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یمنی پارلیمنٹ نے سعودی وزارت خارجہ کے بیان اور سعودی عرب کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک کے اقدامات یمن کے امن، استحکام، وحدت، علاقائی سلامتی اور عوام کی باعزت زندگی کے لیے مخلصانہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروہ کے خلاف سعودی کردار کو قابل قدر قرار دیا گیا۔

بیان میں متحدہ عرب امارات سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بحران کے حل میں حصہ ڈالے اور یمنی عوام کو مشکلات سے نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ پارلیمنٹ نے زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور سلطنت عمان، فوری اور دانشمندانہ اقدامات کریں جو بھائی چارے، ہمسائیگی اور مشترکہ علاقائی مفادات کے مطابق ہوں۔

یمنی پارلیمنٹ نے اختتام میں کہا کہ موجودہ مرحلہ تمام فریقین سے قانونی اور تاریخی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے اور اختلافات کو عسکری رنگ دینے کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دینا چاہیے تاکہ یمن کی وحدت، امن، سرزمین کی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.