صومالی نژاد امریکیوں کی شہریت منسوخی کے لیے کڑی جانچ

0

واشنگٹن / ریاض — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ صومالی نژاد امریکی شہریوں کے امیگریشن اور شہریت سے متعلق معاملات کی سخت جانچ پڑتال کر رہی ہے، تاکہ ایسے ممکنہ دھوکا دہی کے کیسز کی نشاندہی کی جا سکے جو قانون کے تحت شہریت کی منسوخی کا سبب بن سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزارتِ داخلہ (ہوم لینڈ سکیورٹی) کی نائب وزیر ٹریشا مکلوگلین نے کہا کہ امریکی قوانین واضح طور پر یہ اجازت دیتے ہیں کہ اگر کسی فرد نے غلط بیانی یا دھوکا دہی کے ذریعے شہریت حاصل کی ہو تو اس کی شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

اگرچہ امریکہ میں شہریت کی منسوخی کے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں اور یہ ایک طویل قانونی عمل ہے، تاہم امیگرینٹس لیگل ریسورس سینٹر (ILRC) کے مطابق 1990 سے 2017 کے دوران سالانہ اوسطاً صرف 11 کیسز میں شہریت کی منسوخی پر غور کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امیگریشن کے حوالے سے سخت ترین پالیسیوں کا نفاذ کیا ہے۔ ان پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر ملک بدری، ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی، اور سوشل میڈیا پر تارکین وطن کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسیاں قانونی کارروائی کے حق اور آزادیِ اظہار جیسے بنیادی حقوق کو محدود کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات داخلی سکیورٹی کو مضبوط بنانے اور قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں وفاقی حکام نے ریاست مینیسوٹا میں مقیم بعض صومالی نژاد باشندوں کو وفاقی سماجی فلاحی پروگرامز سے منسلک کروڑوں ڈالرز کے مبینہ فراڈ سے جوڑا ہے۔ تاہم، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ان تحقیقات کو صومالی کمیونٹی کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.