نیویارک – امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ایک تاریخی لمحہ آیا ہے، جہاں 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی نے قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھال لیا۔
ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد میئر بن گئے ہیں۔ حلف برداری کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ نیو یارک کے عوام کو نئے سال کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
تاریخی اور علامتی اہمیت
ظہران ممدانی نے اپنا حلف شہر کے سب وے اسٹیشن میں اٹھایا، جہاں انہوں نے قرآنِ مجید کے دو نسخوں پر ہاتھ رکھ کر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان میں سے ایک نسخہ ان کے دادا کا تھا جبکہ دوسرا صدیوں پرانا نسخہ نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر میں محفوظ تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ نسخہ عام لوگوں کے استعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس کی سادگی اور عوامی رسائی کی علامت ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ نیویارک سٹی کے کسی میئر نے قرآن پر حلف اٹھایا، جبکہ ماضی میں زیادہ تر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے رہے ہیں۔ آئینی طور پر کسی مذہبی کتاب کا استعمال لازم نہیں ہے، مگر ممدانی کی یہ حلف برداری نیویارک میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کی عکاس بھی ہے۔
ذاتی شناخت اور سیاسی سفر
ظہران ممدانی جنوبی ایشیائی نژاد ہیں، یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور نیویارک میں پروان چڑھے۔ ان کی اہلیہ امریکی نژاد شامی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مہنگائی اور شہری مسائل پر توجہ مرکوز کی، ساتھ ہی اپنی مسلم شناخت کو بھی کھلے انداز میں پیش کیا اور شہر بھر کی مساجد میں جا کر جنوبی ایشیائی اور مسلم ووٹرز کو متحرک کیا۔
ان کے فیصلے پر بعض قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی، مگر ممدانی نے واضح کیا کہ وہ اپنی شناخت یا عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
عوامی نمائش
حلف برداری میں استعمال ہونے والا تاریخی قرآن اب نیویارک پبلک لائبریری میں عوامی نمائش کے لیے رکھا جائے گا، جہاں منتظمین توقع رکھتے ہیں کہ اس سے لوگ نیویارک میں مسلم تاریخ اور ثقافت کے ذخائر میں مزید دلچسپی لیں گے۔
ظہران ممدانی کی حلف برداری نہ صرف ایک سیاسی واقعہ ہے بلکہ نیویارک کی سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک علامتی سنگِ میل بھی بن گئی ہے۔
