بھارت: 2025 میں تقریباً 14 ہزار 800 صحافی نشانہ بنے، رپورٹ
نئی دہلی — بھارت میں آزادیٔ اظہارِ رائے پر قدغنیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کی سلامتی سنگین خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔ بھارتی جریدے دی وائر کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران تقریباً 14 ہزار 800 صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران آٹھ صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو تشدد کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ 117 صحافیوں اور شہریوں کو محض آزادیٔ اظہارِ رائے کے الزام میں قید کیا گیا۔ اس کے علاوہ 208 افراد کو قانونی کارروائی کی آڑ میں بلیک میل کیا گیا، جبکہ متعدد صحافیوں پر رپورٹنگ، سفر اور اظہارِ خیال کی پابندیاں عائد کی گئیں۔
دی وائر کے مطابق بھارتی حکومت نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس کے باعث آزادیٔ اظہار کے لیے ماحول مزید محدود اور دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔ صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران دھمکیوں، تشدد، مقدمات اور دیگر قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی مسائل، سیاسی امور اور سرکاری سرگرمیوں کی کوریج کرنے والے صحافی سب سے زیادہ خطرے کی زد میں رہے۔ جریدے نے ان اقدامات کو ”آزادیٔ رائے پر منظم قدغن“ قرار دیتے ہوئے انتہا پسند عناصر کے بڑھتے ہوئے اثرات اور سرکاری حکمت عملی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آزادیٔ اظہار پر مسلسل پابندیاں نہ صرف صحافت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی معلومات تک رسائی، شفافیت اور جمہوری اقدار بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔