یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا گیا

0

دبئی – یمن کی سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں سے فوجی پوزیشنیں واپس لینے کے لیے ایک آپریشن شروع کر دیا ہے، جس کے بعد اعلان کے فوراً بعد کم از کم سات سعودی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

سعودی حمایت یافتہ صوبہ حضرموت کے گورنر نے اس اقدام کا اعلان کیا، جسے یمن میں تازہ ترین کشیدگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک ماضی میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں اتحادی رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے ایک سینئر اہلکار عمر البیدھ نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب کا دعویٰ کردہ "پرامن آپریشن” درحقیقت فوجی کارروائی میں بدل گیا۔ ان کے مطابق اعلان کے چند ہی منٹ بعد سات فضائی حملے کیے گئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی کبھی بھی پرامن نہیں تھی۔ سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

یمن کی حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق صوبہ حضرموت کے گورنر سلیم احمد سعید الخنباشی کو مشرقی صوبے میں "ہوم لینڈ شیلڈ” فورسز کی مجموعی کمان سونپ دی گئی ہے اور انہیں مکمل فوجی، سیکورٹی اور انتظامی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔ گورنر نے یمن ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جنگ نہیں بلکہ کیمپوں کے غلط استعمال کو روکنے اور حضرموت کو بدامنی سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس ایس ٹی سی کے ترجمان محمد النقیب نے کہا ہے کہ ان کی فورسز پورے علاقے میں ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی زبردستی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایس ٹی سی کے عمر البیدھ کے مطابق کم از کم تین فضائی حملوں میں صوبے کے بڑے فوجی اڈے الخشاء کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت یمن میں خلیجی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نہ صرف زمینی اثر و رسوخ بلکہ خطے میں سیاسی و عسکری بالادستی کے لیے بھی آمنے سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.