جنوبی عبوری کونسل کی کارروائیاں اماراتی ہدایات پر ہوئی: حضرموت قبائلی اتحاد
حضرموت، یمن – ’’اتحاد حضرموت قبائل‘‘ نے کہا ہے کہ جنوبی انتقالی کونسل (STC) متحدہ عرب امارات کی براہِ راست ہدایات کے بغیر کوئی معاندانہ کارروائی انجام نہیں دے سکتی تھی، اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ اماراتی ایجنڈوں کی عکاسی کرتا ہے جو خلیجی اور عرب مفادات کے خلاف ہیں۔
قبائلی اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حضرموت میں اماراتی مداخلت اس سطح تک پہنچ گئی ہے جو سعودی عرب اور سلطنتِ عمان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے امارات پر الزام لگایا کہ وہ بھائیوں کے درمیان کشیدگی اور جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔
اتحاد کے مطابق، مسلسل کشیدگی اور تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں کا کوئی مثبت جواب نہ ملنے کے باعث سعودی عرب نے STC کے ساتھ ثالثی اور امن کے تمام ممکنہ حل آزما کر ختم کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025 کے آغاز میں حضرموت اور المہرہ میں STC کے اچانک حملے نے یمن میں ایک نیا موڑ پیدا کیا، جو حکومتی افواج اور 2014 سے صنعاء پر قابض حوثیوں کے درمیان جاری ایک دہائی طویل جنگ کے بعد سامنے آیا۔
سعودی قیادت میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے امارات سے STC کو آنے والے اسلحے کی ایک کھیپ کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ اس کے بعد امارات نے یمنی حکومت اور سعودی مطالبے کے مطابق اپنی افواج کی واپسی کا اعلان کیا۔
STC نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’’درع الوطن‘‘ کی فورس ان علاقوں میں تعینات ہوگی جن پر اس نے قبضہ کیا، مگر گورنر حضرموت نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ STC نے امن کی اپیلوں کا جواب نہیں دیا اور بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔