بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے ذریعے امریکی H-1B ویزوں کی فروخت کے انکشافات، 36 ہزار سے زائد جعلی ویزے جاری
نئی دہلی – بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے ذریعے امریکی H-1B ویزوں کے حصول کا ایک منظم دھندہ سرگرم ہے، جس میں لاکھوں شہری شامل ہیں اور یہ دھندہ کئی بھارتی ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔
بھارتی جریدے دی کمیون اور امریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز (CIS) کی رپورٹس کے مطابق بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو H-1B ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں روزانہ تقریباً 200 H-1B ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جن میں 80 سے 90 فیصد جعلی ہیں۔
کیرالا پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کیں۔ چھاپوں کے دوران 22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد جعلی سرٹیفکیٹس اور 28 یونیورسٹیوں کے جعلی مہریں اور مارک شیٹس برآمد کی گئیں۔ ملزمان نے میڈیکل، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جعلی اسناد فراہم کیں۔
امریکی CIS کی ڈائریکٹر جیسیکا وان نے کہا کہ یہ دھندہ بھارتی سیاست دانوں کی پشت پناہی اور سہولت کاری سے ممکن ہوا ہے، اور بھارت میں H-1B ویزا فراڈ کا مشاہدہ امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے بھی کیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جعلی ڈگریوں کی قیمت 1,400 ڈالر تک رکھی گئی تھی اور اب تک 36,025 جعلی ڈگریاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 2008 میں H-1B ویزا پروگرام کے آڈٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ منظور شدہ ویزوں میں سے 13 فیصد سے زائد فراڈ پر مبنی تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ منظم فراڈ بھارت میں تعلیمی اور ویزا نظام کی ناکامی، بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔