امریکا کی جانب سے وینزویلا پر فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لینے کے بعد دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد عالمی طاقتوں نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور وینزویلا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
چین
چینی وزارتِ خارجہ نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایک خودمختار ملک کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ چین نے امریکا پر زور دیا کہ وہ وینزویلا کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرے۔
فرانس
فرانس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو طاقت کے ذریعے ہٹانا ناقابلِ قبول ہے۔
فرانسیسی ردِعمل میں کہا گیا کہ وینزویلا کا مستقبل صرف وہاں کے عوام کو طے کرنے کا حق حاصل ہے اور بیرونی مداخلت خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
برطانیہ
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اتحادی ممالک سے بات چیت کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس فوجی کارروائی میں کسی طور شامل نہیں تھا اور اس معاملے کے تمام حقائق جاننا ضروری ہے۔
یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے وینزویلا کی صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے ضبط و تحمل کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین صدر مادورو کو جائز صدر تسلیم نہیں کرتی، تاہم اقتدار کی پرامن منتقلی اور عالمی قوانین و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے احترام پر زور دیتی ہے۔
یورپی یونین کے مطابق وینزویلا میں موجود یورپی شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
اسپین
ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے وینزویلا پر امریکی حملے پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکا کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسپین وینزویلا کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتا ہے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے۔
اٹلی
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ اٹلی وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وینزویلا میں مقیم اطالوی شہریوں کی سلامتی سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جہاں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار اطالوی باشندے رہائش پذیر ہیں۔
