امریکی صدر کے بعد نیتن یاہو کا بھی ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے، کیونکہ یہ احتجاج ملک کے متعدد شہروں میں پھیل چکے ہیں۔
کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ “ہم ایرانی عوام کی جدوجہد، آزادی اور انصاف کے لیے ان کی امنگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایران ایک ایسے تاریخی لمحے سے گزر رہا ہو جب عوام اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔
ایران میں مظاہروں کا آغاز گزشتہ اتوار کو اس وقت ہوا جب دکانداروں نے معاشی بحران اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی، تاہم بعد ازاں یہ احتجاج سیاسی مطالبات کے ساتھ شدت اختیار کر گیا اور مختلف شہروں تک پھیل گیا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی طویل تاریخ ہے، اور گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان 12 روزہ جنگ بھی ہو چکی ہے، جس کے دوران اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات اور بعض رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری تحقیق اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جبکہ بعد ازاں امریکہ نے بھی مختصر طور پر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں اسرائیل کا ساتھ دیا، جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
نیتن یاہو نے اتوار کو تہران کے جوہری پروگرام پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حالیہ سرکاری دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے ایران میں یورینیم کی صفر افزودگی کے مشترکہ مؤقف کی توثیق کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایران سے 400 کلوگرام افزودہ مواد کو ہٹایا جائے اور جوہری تنصیبات کو سخت اور مؤثر نگرانی میں لایا جائے۔
اے ایف پی کے مطابق سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مظاہرے کم از کم 40 مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران کے مغربی اور درمیانے درجے کے شہروں کی ہے۔