پاکستان کبڈی کے 4 کھلاڑیوں پر ڈوپ ٹیسٹ سے انکار پر 4 سال کی پابندی عائد
لاہور — پاکستان کبڈی کے چار کھلاڑیوں پر ڈوپ ٹیسٹ دینے سے انکار کے باعث چار سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن نے قواعد و ضوابط کے تحت پابندی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عبیداللّٰہ راجپوت، ملک بن یامین، رانا حیدر اور کاشف سندھو نے لاہور میں منعقدہ نیشنل کبڈی چیمپیئن شپ کے دوران ڈوپ ٹیسٹ دینے سے انکار کیا تھا۔
اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق ڈوپ ٹیسٹ سے انکار کو سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، جس پر زیادہ سے زیادہ سزا عائد کی جا سکتی ہے، اسی بنیاد پر چاروں کھلاڑیوں پر چار سال کی پابندی نافذ کی گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کبڈی فیڈریشن نے معاملے پر مزید کارروائی کے لیے قدم اٹھاتے ہوئے عبیداللّٰہ راجپوت کو طلب کر لیا ہے، جبکہ فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس 12 جنوری کو لاہور میں منعقد ہوگا۔
اجلاس میں چاروں کھلاڑیوں کو پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد فیڈریشن آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ کرے گی۔