نکولس مادورو کے بیٹے نے والد کے اغوا کو ’’بیرونی حملہ‘‘ قرار دے دیا
وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کے بیٹے اور رکنِ قومی اسمبلی نکولس مادورو گویرا کا امریکا کی جانب سے والد کے اغوا کے بعد پہلا سخت ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک جذباتی اور غصے سے بھرپور بیان میں نکولس مادورو گویرا نے کہا کہ “تاریخ خود بتائے گی کہ غدار کون تھا، وقت ذمہ دار چہروں کو بے نقاب کرے گا اور انصاف ہوگا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کو اندرونی عناصر نے دھوکہ دیا ہے، تاہم آنے والا وقت سب کچھ واضح کر دے گا۔
گویرا نے کہا کہ “ہم ٹھیک ہیں، ہم پرسکون ہیں، لیکن ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ آپ ہمیں عوام کے ساتھ سڑکوں پر دیکھیں گے۔ ہم عزت اور وقار کا پرچم بلند رکھیں گے۔” انہوں نے اپنے حامیوں سے 4 اور 5 جنوری کو عوامی مظاہروں میں شرکت کی اپیل بھی کی تاکہ قیادت کے گرد اتحاد کو مضبوط بنایا جا سکے۔
نکولس مادورو گویرا نے امریکی کارروائی کو “بیرونی حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے جواب میں سیاسی اور فوجی سطح پر مکمل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے خلاف کی جانے والی کارروائی دراصل ملکی خودمختاری پر حملہ ہے۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو گویرا، جنہیں ’لا گویرا‘ اور ’دی پرنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، حکمران جماعت یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا (PSUV) کے رکن اور ریاستی اسمبلی کے رکن ہیں۔ دوسری جانب امریکی عدالتی دستاویزات میں ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی فیڈرل پراسیکیوٹرز کے مطابق نکولس مادورو گویرا ایک مبینہ بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کے اہم سرغنہ ہیں، جس پر الزام ہے کہ اس نے وینزویلا سے امریکا تک کوکین اسمگل کرنے کے لیے سرکاری اثاثے، فوجی اہلکار اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ تاہم وینزویلا کی حکومت اور مادورو خاندان ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا آیا ہے۔