جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ہے: یمن
ریاض / عدن — یمنی صدر اور صدارتی قیادت کونسل نے جنوبی عبوری کونسل (STC) کے سربراہ عیدروس الزبیدی پر سنگین غداری کے ارتکاب کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے انہیں عہدے سے معطل اور قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ اقدام قانونِ جرائم و سزاؤں کی دفعہ 125 کے تحت کیا گیا ہے، جیسا کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا نے رپورٹ کیا۔
صدارتی قیادت کونسل کے مطابق، الزبیدی نے جنوبی یمن سے متعلق ریاض میں منعقد ہونے والے جامع مذاکرات میں شرکت کی یقین دہانی کے باوجود اچانک اور بغیر اطلاع دیے نامعلوم مقام کی جانب فرار اختیار کیا، جو ریاستی اعتماد اور قومی مفاد کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مسلح گروہ کی تشکیل اور آئین پر حملے کے الزامات
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ الزبیدی نے آئین پر حملہ کیا، ریاستی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی اور ایک مسلح گروہ تشکیل دے کر مسلح افواج کے افسران اور فوجیوں کے قتل جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ مزید یہ کہ اس گروہ نے شہریوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیاں کیں، عوامی و عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور تخریب کاری کے ذریعے فوجی اڈوں کو نقصان پہنچایا۔ یہ تمام اقدامات قانونِ جرائم و سزاؤں کی دفعہ 126 کے زمرے میں آتے ہیں۔
بیان کے مطابق مذکورہ مسلح گروہ نے انسانی جانوں کی پروا کیے بغیر مسلح افواج کے خلاف مسلسل محاذ آرائی اور جھڑپوں کا راستہ اختیار کیا۔ اسی تناظر میں پبلک پراسیکیوٹر کو بھیجے گئے ریفرنس میں الزبیدی پر آئین اور آئینی اداروں پر حملہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جو دفعات 131 اور 132 کے تحت قابلِ مواخذہ ہیں۔
خودمختاری کو نقصان اور اعلیٰ عہدوں کے محاسبے کا قانون
مزید برآں، الزبیدی پر آئین کی خلاف ورزی، قوانین کی نافرمانی، اور ملکی خودمختاری و آزادی کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جو اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے محاسبے کے قانون کی دفعہ 4 کے تحت آتے ہیں۔
افواج کی نقل و حرکت اور عدن میں بدامنی کی کوشش
قانونی حکومت کے حامی اتحاد نے انکشاف کیا کہ الزبیدی نے نصف شب کے قریب حدید اور الصلبان کیمپوں سے بکتر بند گاڑیوں، جنگی گاڑیوں، بھاری و ہلکے ہتھیاروں اور گولہ بارود پر مشتمل بڑی نفری کو صوبہ الضالع کی جانب روانہ کیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ الزبیدی نے عدن کے اندر درجنوں عناصر میں اسلحہ اور گولہ بارود تقسیم کیا، جن کی قیادت مؤمن السقاف اور مختار النوّبی کر رہے تھے، جس کا مقصد شہر میں بدامنی پھیلانا اور استحکام کو متزلزل کرنا تھا۔
صدارتی قیادت کونسل نے واضح کیا ہے کہ ریاست قانون کی بالادستی اور عوامی سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی بغاوت، غیرقانونی عسکری سرگرمی یا آئینی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی، اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔