امریکا کا درجنوں عالمی و اقوام متحدہ اداروں سے علیحدگی کا اعلان

0

واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا درجنوں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ایک اہم عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ویمن بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اسی لیے ان سے نکلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکا 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) بھی شامل ہے، جسے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا بنیادی عالمی معاہدہ سمجھا جاتا ہے اور یہی 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کی بنیاد بھی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امریکا گزشتہ برس تین دہائیوں میں پہلی بار اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس میں شریک نہیں ہوا تھا۔ ماحولیاتی تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر و سی ای او منیش باپنا کے مطابق اگر امریکا UNFCCC سے علیحدہ ہوتا ہے تو وہ ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا، حالانکہ اس معاہدے کا حصہ تمام ممالک ہیں کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف موسمیاتی ذمہ داری تسلیم کی جاتی ہے بلکہ عالمی معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) سے بھی نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، زچگی اور بچوں کی صحت کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔ امریکا اس ادارے کے لیے اپنی فنڈنگ میں پہلے ہی نمایاں کمی کر چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس میمو کے مطابق ان اداروں سے علیحدگی کا مطلب نہ صرف شمولیت کا خاتمہ ہوگا بلکہ مالی تعاون بھی مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد اقوام متحدہ اداروں کے لیے رضاکارانہ امریکی فنڈنگ میں واضح کمی کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان کی جانب سے اس فیصلے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ اقدام صدر ٹرمپ کے کثیرالطرفہ اداروں سے متعلق دیرینہ تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ بارہا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی افادیت، اخراجات اور جوابدہی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے اکثر امریکی مفادات کا مؤثر تحفظ نہیں کرتے۔

اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے لیے امریکی فنڈنگ میں کمی کی کوششیں تیز کیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی اختیار کی، فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے لیے فنڈنگ روک دی اور یونیسکو سے بھی نکلنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے علیحدگی کے منصوبے بھی سامنے آ چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق جن دیگر اداروں سے امریکا جلد از جلد علیحدگی چاہتا ہے، ان میں اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD)، انٹرنیشنل انرجی فورم، اقوام متحدہ کا رجسٹر آف کنونشنل آرمز اور اقوام متحدہ کا پیس بلڈنگ کمیشن شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ ادارے ایسے نظریات کو فروغ دیتے ہیں جو امریکی خودمختاری اور معاشی طاقت سے متصادم ہیں، اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل کو دیگر مؤثر طریقوں سے استعمال کیا جانا زیادہ مناسب ہے۔

بیان کے مطابق یہ فیصلہ تمام بین الاقوامی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کے جامع جائزے کا حصہ ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کہاں امریکی شمولیت اور فنڈنگ واقعی قومی ترجیحات اور مفادات سے ہم آہنگ ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.