امریکا کا روس سمیت وینزویلا سے منسلک دوآئل ٹینکرز پر قبضہ، روس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

0

واشنگٹن — امریکا نے بحرِ اوقیانوس میں وینزویلا سے منسلک دو آئل ٹینکرز کو تحویل میں لے لیا، جن میں سے ایک روسی پرچم کے تحت چل رہا تھا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی جارحانہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کرنا اور اس کی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق صدر نکولس مادورو کو ہفتے کے روز کاراکاس میں ایک فوجی چھاپے کے دوران حراست میں لینے کے بعد امریکا نے وینزویلا سے آنے جانے والے پابندیوں کے شکار جہازوں کے خلاف ناکہ بندی مزید سخت کر دی ہے۔ وینزویلا اوپیک کا رکن ملک ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 2019 میں صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران وینزویلا کے تیل پر عائد کی گئی بعض پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والا تعاقب بدھ کی صبح اس وقت اختتام پذیر ہوا جب امریکی کوسٹ گارڈ اور فوجی خصوصی دستوں نے عدالتی ضبطی کے وارنٹ کے تحت مارینیرا کروڈ آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔ یہ وہی جہاز ہے جس نے گزشتہ ماہ بورڈنگ سے انکار کر دیا تھا اور بعد ازاں روسی پرچم اختیار کر لیا تھا۔

قبضے کے وقت قریب ہی ایک روسی آبدوز اور دیگر بحری جہازوں کی موجودگی نے ماسکو کے ساتھ مزید کشیدگی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ روس پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث مغرب کے ساتھ شدید اختلافات کا شکار ہے اور اس نے وینزویلا میں امریکی اقدامات کی کھل کر مذمت کی ہے۔ تاہم کریملن نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قبضے میں لیا گیا جہاز دراصل “جعلی روسی آئل ٹینکر” تھا۔ ان کے مطابق جہاز نے پابندیوں سے بچنے کے لیے خود کو روسی ٹینکر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

اس سے قبل بدھ کے روز امریکی کوسٹ گارڈ نے وینزویلا کا تیل لے جانے والے ایک اور ٹینکر ایم صوفیہ کو بھی روک لیا، جو پاناما کے جھنڈے تلے چل رہا تھا۔ یہ کارروائی جنوبی امریکا کے شمال مشرقی ساحل کے قریب کی گئی اور حالیہ ہفتوں میں وینزویلا سے منسلک چوتھی ضبطی قرار دی جا رہی ہے۔ وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ریکارڈ کے مطابق یہ ٹینکر مکمل طور پر تیل سے بھرا ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف وینزویلا پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ روس اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید شدت آنے کا امکان بھی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.