غزہ: اقوام متحدہ کے ادارے "انروا” نے 571 کارکنوں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا
غزہ – فلسطینیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے ‘انروا’ بدترین مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں 571 مقامی کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ زیادہ تر عملہ غزہ سے تعلق رکھتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، منگل کے روز یہ فیصلے کیے گئے اور کارکنوں کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس نہیں آسکیں گے۔ ادارے کے ترجمان نے کہا کہ یہ مالی بحران ادارے کی سات دہائیوں کی تاریخ میں سب سے شدید ہے۔
انروا کے مطابق، سال 2025 میں ادارے کو اخراجات پورا کرنے کے لیے 880 ملین ڈالر درکار تھے، لیکن مختلف ممالک سے صرف 570 ملین ڈالر فراہم ہو سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ 2026 میں بھی فنڈنگ میں کمی جاری ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے کارکن پچھلے دس ماہ سے تنخواہ کے بغیر کام کر رہے تھے۔
انروا کے ترجمان نے کہا: "یہ فیصلہ بہت مشکل تھا، لیکن مالی بحران اتنا شدید ہے کہ سینکڑوں کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کرنا ناگزیر تھا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ میں پہلے بھی 300 کارکن اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو چکے تھے، اور موجودہ ملازمین کی تعداد تقریباً 12 ہزار ہے۔
ادارہ اسرائیل میں کام نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں اس پر پابندی ہے، لیکن فلسطینی علاقوں میں یہ تنظیم بچوں، خواتین، اور پناہ گزینوں کی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ اقدامات فنڈنگ میں کمی اور مالی مشکلات کی وجہ سے کیے گئے اور یہ ادارے کی بقاء کے لیے ضروری تھے۔