ایران: مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شدت، سیکورٹی اہلکاروں سمیت جاں بحق مظاہرین کی تعداد 37 سے تجاوز کرگئی
تہران – ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں شدت آ گئی ہے، جہاں تازہ مظاہروں کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 30 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
ہلاکتیں صوبے چہار محل اور بختیاری میں ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے گورنر کے دفاتر کے علاوہ کئی سرکاری اور نجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ 11 دنوں کے دوران پرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔
احتجاج اس وقت پُرتشدد شکل اختیار کر گیا جب لردگان شہر میں دکاندار اپنی دکانیں بند کرنے کے بعد سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور بعض نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔
لردگان میں گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی۔ احتجاج کے دوران امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے اور حکام کی جانب سے مظاہرین کو قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔