پاکستان کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت

0

نیویارک — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کو عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا خاتمہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے دفتر برائے امورِ تخفیف اسلحہ (او ڈی اے) کے قائم مقام سربراہ ادیدیجی ایبو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے نئی شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ساتھ تعاون کے عزم کا خیرمقدم کیا اور شام و او پی سی ڈبلیو کے درمیان جاری رابطوں سے متعلق تازہ تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل دمشق کے نواحی علاقوں میں اعصابی گیس کے حملے میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2118 (2013) منظور کی تھی، جس کے تحت او پی سی ڈبلیو کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سیکرٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق شام میں اعلان کردہ 26 مقامات کے علاوہ مزید 100 سے زائد مقامات ایسے ہیں جن کے بارے میں معلومات ہیں کہ وہ سابق حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.