ایرانی حکومت نے مظاہرین کنٹرول کے لیے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی کالز بند کر دی، امریکہ اور اسرائیل کو مورد الزام قرار دیا
تہران — ایران کے سرکاری ٹی وی نے ملک میں جاری مظاہروں پر پہلی بار باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے "دہشت گرد ایجنٹوں” نے تشدد اور آگ زنی میں حصہ لیا۔
سرکاری رپورٹ صبح 8 بجے نشر کی گئی اور اس میں کہا گیا کہ مظاہروں کے دوران پرائیویٹ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، بسیں، فائر ٹرک اور دیگر عوامی مقامات کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کی حکومت نے مظاہرین پر کنٹرول کے لیے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون کالز بند کر دی ہیں، جس سے ملک کے اندر اور باہر رابطے محدود ہو گئے ہیں۔
تاہم، ایران کے جلاوطن ولی عہد کی کال نے جمعرات کی رات ایک بڑے مظاہرے کو جنم دیا، جو مقامی وقت کے مطابق شام 8 بجے شروع ہوا۔ یہ مظاہرے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف عوامی غم و غصے کا مظہر ہیں۔