یمن: جنوبی عبوری کونسل کے خاتمے کا اعلان، یمنی مجلس شوری اور سعودیہ کا خیرمقدم

0

یمن میں جنوبی عبوری کونسل (SAC) کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے بعد عبوری انتظامی اقدامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ ملک میں سیاسی بحران کے حل اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف فریقین نے قاہرہ میں مذاکرات کیے تھے۔

حالیہ بیان کے مطابق سابقہ عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی اور دیگر اراکین کی ذمہ داریاں ختم کر دی گئی ہیں اور ان کے اختیارات کو ایک عارضی عبوری انتظامی کمیٹی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی یمن کے جنوبی علاقوں میں حکومتی امور کی نگرانی کرے گی اور انسانی خدمات، سیکورٹی اور بنیادی انتظامی امور کو سنبھالے گی۔

یمن کے عبوری انتظامی اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ عبوری کمیٹی کی نگرانی میں غیر مسلح تنظیمیں اور مقامی ادارے کام کریں گے تاکہ عوام کی زندگی پر کم سے کم اثر پڑے اور امن عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک نے اس اقدام کو خطے میں استحکام کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔

دوسری طرف یمنی مجلس شوریٰ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام اس اعتراف کی عکاسی کرتا ہے کہ ایسے ادارے جو تقسیم کو تقویت دیتے ہیں یا سیاسی منظرنامے کو پیچیدہ بناتے ہیں، اب برقرار رہنے کے قابل نہیں۔ مجلس شوریٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی مسئلے کا حل یکطرفہ منصوبوں یا ہتھیاروں کے زور پر نہیں، بلکہ ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے جو شہریوں کی مرضی، قومی حوالوں اور صفوں کے اتحاد کا احترام کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کونسل عبوری کونسل کے خاتمے کے اعلان میں صدارتی قیادت کے تمام آئینی اقدامات اور فیصلوں کی مکمل حمایت کرتی ہے، جن میں عیدروس الزبیدی کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جس کا مقصد سیاسی اور سکیورٹی منظرنامے کو مستحکم رکھنا، اتحاد کو برقرار رکھنا اور افراتفری یا مسلح بغاوت سے روکنا ہے۔

شوریٰ نے سعودی عرب کی مذاکراتی کوششوں اور تناؤ کم کرنے کے اقدامات کی تعریف کی اور جنوبی کی تمام قوتوں، شخصیات اور سرگرمیوں پر زور دیا کہ وہ آنے والے مذاکرات میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں تاکہ یمنی ریاست اور اس کے قانونی اداروں کے فریم ورک میں جنوبی مسئلے کا پائیدار حل نکل سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ موجودہ مرحلہ حکمت، ضبطِ نفس، قومی مفاد اور سماجی امن کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے، اور کونسل نے امن، مکالمے اور مستحکم یمن کی تعمیر کے لیے اپنے آئینی کردار کے عزم کا اعادہ کیا ہے

اسی طرح سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی یمن میں قیادت کی جانب سے جنوبی عبوری کونسل اور اس کے تمام مرکزی و ذیلی اداروں کو تحلیل کرنے کے فیصلے کو ایک دلیرانہ قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی مسئلے کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے اور اس سے جنوبی علاقوں کے دیگر افراد کی ریاض کانفرنس میں شرکت کی حوصلہ افزائی ہوگی، تاکہ وہ اپنی اجتماعی قومی جدوجہد کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔

انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب جنوبی شخصیات سے مشاورت کے بعد ایک تیاری کمیٹی تشکیل دے گا جو جنوبی مکالمہ کانفرنس کی تیاری کرے گی۔ اس کانفرنس میں جنوبی یمن کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بلا امتیاز شریک ہوں گی۔ سعودی عرب اس کانفرنس کے نتائج کی حمایت کرے گا تاکہ انہیں یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی میز پر پیش کیا جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.