ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے ایرانی صورتحال کے پیشِ نظر وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کو وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
روزنامہ جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مدثر ٹیپو نے کہا کہ شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سفارتخانے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں وائی فائی سروس ڈاؤن ہے جبکہ ٹیلی فون کا نظام بھی متاثر ہوا ہے، تاہم ایرانی شہروں میں قائم پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانوں کی لینڈ لائنز فعال ہیں جن پر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
سفیر پاکستان نے بذریعہ سڑک وطن واپس جانے کے خواہشمند شہریوں کو ہدایت کی کہ بارڈر بند ہونے کے وقت سے کم از کم چار گھنٹے قبل سرحد پر پہنچیں اور واپسی کے وقت پاسپورٹ پر امیگریشن اسٹیمپ لگوانا ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
پاکستان واپس آنے والے طلبہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ طلبہ باضابطہ طریقہ کار مکمل کرکے روانہ ہوں اور اپنی متعلقہ یونیورسٹی سے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ ضرور حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتخانہ ایرانی بارڈر حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی شہریوں اور طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔
مدثر ٹیپو کے مطابق ہرمزگان یونیورسٹی کے 72 پاکستانی طلبہ آج پاکستان واپس روانہ ہو چکے ہیں جبکہ زنجان یونیورسٹی کے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے، اور ہرمزگان یونیورسٹی کے طلبہ کو سفارتخانے کی جانب سے مکمل معاونت فراہم کی گئی۔