پنسلوینیا، امریکا – پنسلوینیا میں پولیس نے ایک ایسے کیس کا انکشاف کیا ہے جس نے اہلِ علاقہ کو دہلا دیا ہے۔ 34 سالہ جوناتھن گیرلاک پر الزام ہے کہ اس نے ماؤنٹ موریا قبرستان میں کم از کم 26 قبریں کھودی اور انسانی باقیات چرائی، جنہیں اپنے گھر میں جمع کیا۔
پولیس کے مطابق گیرلاک کو 6 جنوری کو گرفتار کیا گیا، جب وہ لوہے کی سلاخ اور ایک بوری کے ساتھ اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔ اس بوری سے دو کم عمر بچوں کی ممی شدہ لاشیں، تین کھوپڑیاں اور دیگر ہڈیاں برآمد ہوئیں۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ اس نے مجموعی طور پر تقریباً 30 افراد کی انسانی باقیات چرائی تھیں۔
گیرلاک کے ایفراٹا، لنکاسٹر کاؤنٹی میں واقع گھر کی تلاشی کے دوران 100 سے زائد انسانی کھوپڑیاں، لمبی ہڈیاں، ممی شدہ ہاتھ اور پاؤں، دو سڑتے ہوئے دھڑ اور دیگر انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے۔ ڈیلاویئر کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹینر راؤس نے کہا کہ یہ منظر کسی ہارر فلم کی طرح تھا، کچھ لاشوں کی باقیات لٹکی ہوئی تھیں، کچھ کو جوڑ کر رکھا گیا تھا اور کچھ کھوپڑیاں شیلف پر رکھی گئی تھیں۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گیرلاک نے ایک انسانی ڈھانچے کے ساتھ پیس میکر بھی جڑا ہوا رکھا اور قبرستان میں مقبروں اور زیرِ زمین قبروں کو نشانہ بنایا۔ تحقیقات میں ایک فیس بک گروپ اور انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی سامنے آئے، جہاں اس نے انسانی ہڈیوں اور کھوپڑیوں کی تصاویر شیئر کیں اور انہیں فروخت کے لیے پیش کیا۔
گیرلاک پر 100 سے زائد الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں لاشوں کی بے حرمتی، عوامی یادگار کی توہین، تاریخی قبرستان کی بے حرمتی، نقب زنی، غیر قانونی داخلہ اور چوری شامل ہیں۔ اسے 10 لاکھ ڈالر کے ضمانتی مچلکوں پر جیل میں رکھا گیا ہے۔
ییڈن بورو پولیس نے ایک بیان میں کہا: "یہ ایک انتہائی ہولناک جرم تھا جس نے ہماری برادری کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ ہم تمام قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں اور قبرستان کے دوستوں کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔”
