یروشلم – اسرائیل اگلے ماہ مقبوضہ مغربی کنارے کے قلب میں ایک بائی پاس سڑک کی تعمیر شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو فلسطینیوں کے لیے مرکزی علاقوں تک رسائی محدود کرے گی اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے اہم علاقے کے الحاق کو مضبوط کرے گی۔
یہ سڑک یروشلم کے مشرق میں E1 علاقے میں تعمیر کی جائے گی، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال اور جنوب کو فلسطینی کمیونٹیز سے الگ کر دے گی۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ نے کہا کہ منصوبے کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو محدود کرنا ہے۔
فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے گروپس نے سخت اعتراض کیا ہے اور اسے "اپارتھائیڈ روڈ” قرار دیا ہے، کیونکہ یہ فلسطینیوں اور اسرائیلی آباد کاروں کے لیے الگ الگ ٹرانزٹ سسٹم قائم کرے گی۔ ماہرین کے مطابق سڑک اور منصوبہ شدہ بستیوں کی توسیع فلسطینی کمیونٹیز کو مزید الگ تھلگ اور بے دخل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیل E1 میں 3,000 سے زائد مکانات کی تعمیر بھی شروع کرنے والا ہے، جبکہ فلسطینیوں کو سڑک استعمال کرنے کے لیے چیک پوائنٹ سے گزرنا ہوگا۔ مقامی کمیونٹی کے مکانات کی مسماری بھی متوقع ہے۔
بین الاقوامی برادری نے پہلے ہی اس منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت 20 سے زائد ممالک نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف نے 2024 میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اسرائیل نے مغربی کنارے میں آبادکاری کے ایجنڈے پر عمل جاری رکھا ہے۔
فلسطینی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
