ٹرمپ کو ممکنہ حملے کیلئے ایران کے 50 مقامات کی فہرست دے دی گئی، فوجی اہداف نمایاں
واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے ممکنہ فوجی اہداف کی تفصیلی فہرست موصول ہوئی ہے، جس کے بعد صدر پر ایران میں مظاہرین کی حمایت کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور جاری ہے۔
برطانوی روزنامہ ڈیلی میل کے مطابق یہ فہرست غیر منافع بخش تنظیم ’ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف محاذ‘ (UANI) نے مرتب کی ہے، جس میں 50 اہم اہداف شامل ہیں۔ یہ فائل پیر کی صبح وائٹ ہاؤس حکام کو پیش کی گئی، تاکہ اہم سیکیورٹی اجلاسوں سے قبل امریکی قیادت کو مکمل معلومات دستیاب ہوں۔
فہرست میں تہران کے ‘ثر اللہ’ میں قدس ریولوشنری گارڈ کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے صحیح جغرافیائی کوآرڈینیٹس بھی شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، چار بڑے ذیلی قیادت مراکز بھی نشاندہی کیے گئے ہیں:
-
قدس قیادت مرکز: شمال اور شمال مغرب تہران کی نگرانی
-
الفتح قیادت مرکز: جنوب مغرب تہران کی نگرانی
-
النصر قیادت مرکز: شمال مشرقی تہران کی کارروائیاں
-
القدر قیادت مرکز: جنوب مشرق اور وسط تہران کی نگرانی
یہ فہرست ایرانی گارڈ کی صلاحیتوں، شہریوں کے خلاف مظالم کی منصوبہ بندی اور یونٹس کی حرکات کا مکمل نقشہ فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تہران میں چھپے بنیادی انفراسٹرکچر، 23 علاقائی اڈے، اور ریولوشنری گارڈ کی بسیج فورسز کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جو مظاہرین کے خلاف مقامی کارروائیوں کی قیادت کرتی ہیں۔
اہم بریگیڈز میں شمال مشرقی تہران میں تعینات بریگیڈ آل محمد اور جنوب مشرقی تہران میں تعینات بریگیڈ الزہراء شامل ہیں۔
ایران کے نیشنل سیکیورٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (UANI) کے کسری عرابی نے ڈیلی میل کو بتایا کہ مظاہرے اور حکومت کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک غیر مسلح شہری اور اسلحہ بردار نظام کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ گرفتار افراد کو فوری سزائے موت کا سامنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ڈپلومیسی کے امکانات ختم ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے منگل کو ایران کے حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور قاتل حکام کے نام محفوظ رکھیں، ساتھ ہی کہا کہ "مدد آ رہی ہے”۔