ایرانی عدلیہ کا مظاہرین کو سزائے موت دینے کا عندیہ، ٹرمپ کی وارننگ
تہران – ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت انتباہ کے باوجود ملک گیر مظاہروں کے دوران گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائی اور سزائے موت دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری ایک آن لائن ویڈیو پیغام میں محسنی اژہ ای نے کہا کہ احتجاجی مظاہروں سے متعلق مقدمات میں کسی قسم کی تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر ہم کوئی اقدام کرنا چاہتے ہیں تو وہ ابھی کرنا ہوگا۔ اگر فیصلوں میں تاخیر ہوئی تو دو یا تین ماہ بعد اس کا وہ اثر نہیں رہے گا جو فوری کارروائی سے ہوتا ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے تاکہ ریاستی رِٹ قائم رکھی جا سکے۔
محسنی اژہ ای کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے براہِ راست چیلنج کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کو مظاہرین کو پھانسی دینے کے سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا تھا، "اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم نہایت سخت کارروائی کریں گے۔ ایسی کسی بھی حرکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی عدلیہ کے تازہ بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ایران میں تیز رفتار مقدمات اور ممکنہ پھانسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔