یورپی پارلیمنٹ ٹرمپ کی گرین لینڈ سے متعلق دھمکیوں پر امریکہ سے تجارتی معاہدہ منجمد کرنے پر غور
یورپی پارلیمنٹ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر امریکہ کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کے یورپی یونین میں نفاذ کو روکنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر امریکی مصنوعات پر یورپی یونین کی درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے اور امریکی لابسٹرز پر صفر ٹیرف برقرار رکھنے سے متعلق ہے، جس پر ابتدائی اتفاق 2020 میں ہوا تھا۔
پارلیمنٹ کی تجارتی کمیٹی کو 26 جنوری کو ان قانون سازی تجاویز پر ووٹ کے ذریعے اپنی حتمی پوزیشن طے کرنی تھی، تاہم بدھ کی صبح سرکردہ ارکان کی میٹنگ کے بعد ووٹنگ کو مؤخر کرنے کے امکان پر غور کیا گیا۔ اگرچہ فوری فیصلہ نہیں ہو سکا، مگر ارکان نے طے کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے دوبارہ اس معاملے پر غور کریں گے۔ ایک پارلیمانی ذریعے کے مطابق بائیں بازو اور سینٹرسٹ گروپوں کے کئی ارکان نے ووٹنگ مؤخر کرنے کی حمایت کی ہے۔
اسی دوران 23 قانون سازوں کے ایک گروپ نے یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ جب تک امریکی انتظامیہ ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے کنٹرول سے متعلق دھمکیاں دیتی رہے، اس معاہدے پر تمام کارروائی منجمد کر دی جائے۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں معاہدے کی منظوری دینا ٹرمپ کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہو گا۔
دستخط کنندگان میں زیادہ تر بائیں بازو کے ارکان شامل ہیں، تاہم سینٹر لیفٹ سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز کے نمائندے بھی اس موقف کے حامی ہیں۔ گرینز کی رکن اینا کاوازینی کے مطابق معاہدے کے حق میں واحد دلیل استحکام ہے، مگر ٹرمپ کی پالیسیوں نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی پیشکش میں افراتفری کے سوا کچھ نہیں۔ سینٹرسٹ رینیو یورپ گروپ کی سربراہ ویلری ہائیر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر دھمکیاں جاری رہیں تو ووٹنگ روکنا زیر غور آنا چاہیے۔
کئی قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ یہ تجارتی معاہدہ یورپی یونین کے لیے غیر متوازن ہے کیونکہ اس کے تحت یورپی یونین کو زیادہ تر درآمدی محصولات میں کمی کرنا پڑے گی جبکہ امریکہ 15 فیصد کی وسیع ٹیرف شرح برقرار رکھے گا۔ دوسری جانب، معاہدہ منجمد کرنے سے ٹرمپ کے ردعمل کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے نتیجے میں امریکی محصولات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اسپرٹ یا اسٹیل جیسی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے لیے اس وقت تک تیار نہیں جب تک یہ معاہدہ منظور نہیں ہو جاتا۔