ٹرمپ کسی طویل جنگ کے بجائے ایران پر فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں، امریکی میڈیا

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو تیز، حتمی اور فیصلہ کن بنانا چاہتے ہیں، تاکہ خطے میں ایک طویل اور مسلسل جنگ سے بچا جا سکے۔

امریکی میڈیا ادارے این بی سی نیوز نے ایک امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ اگر ایران کے خلاف فوجی اقدام کیا جائے تو وہ ایسا ہو جو ایرانی حکومت کو فوری اور گہرا دھچکا پہنچائے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مشیر اس بات کی ضمانت دینے سے قاصر ہیں کہ امریکی حملے کی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران تیزی سے کمزور یا منہدم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکا کے پاس پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی ردعمل کا مؤثر دفاع کرنے کے لیے کافی فوجی وسائل موجود نہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی لیے اگر صدر ٹرمپ حملے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ابتدا میں محدود نوعیت کی کارروائیوں کی منظوری دی جا سکتی ہے، جبکہ بعد ازاں صورتحال کے مطابق دائرہ کار بڑھانے کا امکان کھلا رکھا جائے گا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

این بی سی نیوز کے مطابق ٹرمپ اپنے اس بار بار دہرائے گئے وعدے پر بھی قائم ہیں کہ امریکا ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

ذرائع میں سے ایک نے کہا "اگر ٹرمپ کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلہ کن ہو۔”

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ کو مختلف فوجی آپشنز پیش کیے جائیں گے، جو ان اہداف کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں جن کا انہوں نے ایک روز قبل اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ بریفنگ کے دوران خاکہ پیش کیا تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.