امریکا نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر 5 ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

0

واشنگٹن – امریکا نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کرتے ہوئے پانچ اعلیٰ ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی رہنماؤں کی اُن مالی رقوم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے جو مختلف ذرائع سے دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کی جا رہی ہیں۔

پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکریٹری کے علاوہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ کمانڈرز شامل ہیں، جن پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی قیادت کے لیے واشنگٹن کا پیغام بالکل واضح ہے۔
انہوں نے کہا،
“امریکی محکمۂ خزانہ جانتا ہے کہ آپ کس طرح عوام سے لوٹی گئی رقوم کو دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں، اور ہم ان رقوم کا سراغ لگائیں گے۔”

بیسنٹ نے مزید کہا کہ اگر ایرانی رہنما تعاون کا راستہ اختیار کریں تو اب بھی وقت باقی ہے۔
“جیسا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے، تشدد بند کریں اور ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں،” انہوں نے کہا۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے اس کے ساتھ ہی مزید 18 افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایرانی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو غیر ملکی منڈیوں تک منتقل کرنے اور اس رقم کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا آزادی اور انصاف کے مطالبے میں ایرانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.